


کورس کی خصوصیات : ✨عیدِ میلاد النبی ﷺ کیوں؟ ✨حقیقتِ جشنِ میلاد النبی ﷺ ✨فضیلتِ ماہِ میلاد ﷺ

Mentor
Flexible schedule
Access on mobile and TV
Full lifetime access
Certificate of completion
لیکچر 1️⃣ پارٹ 1️⃣ 💖 نتیجہ: یقیناً دو عالم کی ہر نعمت دراصل میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے وسیلے سے ہی میسر آئی ہے۔ فضیلت والی تمام راتوں میں سب سے بڑی اور کامل فضیلت، شبِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے، کیونکہ ہر جزوی فضیلت بھی اسی شب کی برکت سے ملی۔ شریعتِ محمدی ﷺ نے خوشیاں منانے کیلئے حدود مقرر کی ہیں اور وہ خوشیاں جو شرعی دائرے سے تجاوز کریں، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہیں، مگر ولادتِ مصطفیٰ ﷺ ایک ایسی خوشی ہے جسے صرف جائز ہی نہیں بلکہ بصورتِ جشن و عید، بھرپور اہتمام کے ساتھ منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی حقیقی خوشی ایمان کی پختگی، محبت و نسبتِ مصطفوی ﷺ کے استحکام کا ذریعہ ہے۔
لیکچر 1️⃣ پارٹ2️⃣ ۔ 💖 نتیجہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے شہر، ناموں، گلی کوچوں، چہرے، زلفوں، آنکھوں، اہلِ بیت و اصحاب بلکہ ان کے گھوڑوں تک کی قسمیں محض محبت کے جوش میں کھائیں اور اپنے و محبوب کے مابین صرف ایک قانون—عبدہٖ و رسولہٗ—کو برقرار رکھتے ہوئے باقی تمام قوانین اٹھا دیے، اور یہی پس منظر ہے جس میں بارگاہِ مصطفوی ﷺ کا وہ ادب متعین ہوتا ہے جو تمام مخلوقات، تمام انسانوں بلکہ تمام انبیاء سے بڑھ کر، حتی کہ حد سے بھی آگے ہو۔ اسی سلسلے میں فَلْیَفْرَحُوا کا حکم اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ میلادِ مصطفی ﷺ کی خوشیوں کے لیے کوئی حد مقرر نہیں، اور هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ واضح کرتا ہے کہ اموال و اعمال میں سب سے اعلیٰ عمل میلاد کی مسرتیں ہیں۔ میلاد محض برصغیر کا نہیں بلکہ عرب، عجم اور حرمینِ طیّبین کا بھی راسخ عمل رہا، اور شیخ الاسلام کے مشرب کے مطابق گیارہ ماہ ہوش اور ماہِ میلاد عشق و جنون کے ساتھ منایا جائے۔ تاریخِ اسلام میں پہلی باقاعدہ اور شاندار محفلِ میلاد شاہِ اربل ابو سعید المظفر نے قائم کی جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی تھے؛ سادگی کا عالم یہ کہ خود پانچ درہم کے لباس پر اکتفا کرتے مگر جشنِ میلاد کے لیے تین لاکھ سونے کے دینار—جو موجودہ حساب کے مطابق ساٹھ کروڑ یا چھ ارب روپے بنتے ہیں—سالانہ وقف کرتے، جن سے پانچ ہزار بکرے، دس ہزار مرغے، ایک لاکھ زبدیہ پرندے اور تیس ہزار تھال مٹھائی تیار ہوتی اور امام ابن دحیہ کی تصنیف التنویر فی مولد البشیر النذیر محفل میں باقاعدہ پڑھی جاتی۔ ظہر سے فجر تک محفلِ سماع اور شرکاءِ محفل کا بادشاہ کے ساتھ رقص—جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ اور امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں صراحت سے نقل کیا—اس جشن کی روحانی شان و شوکت کا جلیل الشان اظہار تھا، اور اسی جمالیاتی روایت کا خلاصہ شیخ الاسلام کے اس حکم میں سمٹ آتا ہے کہ میلاد ایسی کیفیت سے مناؤ کہ لوگ عاشق نہیں بلکہ ’’مجنون‘‘ کہیں۔
لیکچر 2️⃣ پارٹ1️⃣ 💖 نتیجہ: مومن کی شان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر خوشی منائے اس سے اس کے ایمان کی خبر ہوگی یہ قرآن کی رو سے شرعی حکم ہے، مستحسن عمل اور خیرِ کثیر کے حصول کا باعث ہے۔
لیکچر 2️⃣ پارٹ2️⃣ نتیجہ💖 نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جس مقصد کے لیے آپ کی بعثت مبارکہ ہوئی اس کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا جائے یعنی اسلام کو ہر باطل نظام پر غالب کرنے کے لئے زندگی وقف کرنا۔
لیکچر 3️⃣پارٹ1️⃣۔ 💖 نتیجہ: ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبادت ہے۔ اس ضمن میں مجالس سیرت النبی ﷺ اور میلادالنبیﷺ دو عام رائج طریقے ہیں، جن میں سے میلادالنبیﷺ کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ سیرت کے پہلوؤں تک کو شامل ہے۔ لہٰذا مجالس میلادالنبیﷺ منانا ازحد ضروری عمل ہے۔
لیکچر 3️⃣پارٹ2️⃣ " 💖 نتیجہ: میلاد النبی ﷺ منانا اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ یہ عبادت کا ذریعہ ہے، حب نبی ﷺ کے حصول اور نعمت عظمی کے شکرانے کا سبب ہے۔ قرآن پاک اس کی دلیل ہے۔
لیکچر 3️⃣ پارٹ3️⃣ 💖 نتیجہ: جشنِ ولادت منانا سنتِ رسول ﷺ اور سنتِ صحابہ ہے، قبر و آخرت میں ثواب کا باعث ہے۔حضور ﷺ کی ولادت و بعثت کا مقصد حق کے غلبہ کے لئے اور دین کی سرفرازی کے لئے تھا۔
لیکچر 4️⃣ پارٹ 1️⃣ 💖 نتیجہ: نام محمد ﷺ باعث بخشش و مغفرت ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی بھی مدد کا سبب بنتا رہا ہے۔ اور حضورﷺ سے منسوب ہرہر رشتے اور تعلق کا احترام ہم پر واجب ہے۔
لیکچر 4️⃣ پارٹ 2️⃣ 💖 نتیجہ: حضورﷺ خوش ہو کر کچھ دعا دے دیں کہ اللہ تمہیں سلامت رکھے اگر ساری دنیا ناراض ہو جائے حضور خوش ہو جائیں خدا کی قسم سودا خسارے کا نہیں ہے۔
لیکچر 5️⃣ 💖نتیجہ: جس طرح صحابہ کرام کے دور میں پختہ و مزین مساجد اور قرآن کے اعراب کی ضرورت نہ تھی لیکن آج کے دور میں بوجہ ضرورت یہ سب کام ہوتے ہیں۔ اسی طرح میلاد النبی ﷺ کا جشن منانا آج کے دور میں کمزور ایمان کی تازگی کے لئے ضروری ہے۔ قرآن مجید میں صرف حرام کردہ کام کا ذکر کیا گیا ہے تو مطلب جس کام سے منع نہیں فرمایا گیا وہ تمام کام جائز ہیں۔ اور انبیاء کرام علیہم السلام کا یوم ولادت منانا قرآن مجید میں کہیں بھی ممنوع نہیں ہے۔
لیکچر 6️⃣ پارٹ 1️⃣ 💖 نتیجہ: حضور ﷺ کی عظمت و رفعت کا ذکر آپ ﷺ کی ولادت سے بھی پہلے سے ہوتا چلا آ رہا یے اور بعد از قیامت، جنت تک آقا علیہ السلام سلطان کائنات ہیں۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں
لیکچر 6️⃣ پارٹ 2️⃣ 💖 نتیجہ: آقا علیہ الصلوۃ والسلام رحمت اللعالمین ہیں اور ازل سے بعد از جنت تک حضور ﷺ سلطان کائنات ہوں گے۔ تمام انبیاء کرام نے اپنی امتوں کو آقا کریم ﷺ کی آمد کی خبر دی اور ان کی پیروی کا حکم دیا۔
لیکچر 6️⃣ پارٹ3️⃣ 💖 نتیجہ: آقا علیہ السلام کل عالم کے، جن و انس، نباتات و حیاتیات بلکہ ہر ذرہ ذرہ کے سلطان ہیں، اور آپ ﷺکی بادشاہت آپﷺکی ولادت سےپہلے بھی قائم تھی بعد از وصال بھی قائم ہے اور جنت تک قائم و دائم رہے گی۔
لیکچر 6️⃣ پارٹ4️⃣ 💖 نتیجہ: آقا علیہ السلام نہ صرف جنات، انسان اور ملائکہ کے سلطان ہیں بلکہ ہر قسم کی مخلوقات حتی کہ جانور اور حیاتیات کے بھی سلطان ہیں اور انکی زبانیں سمجھتے ہیں کیونکہ اللہ پاک نے ہر نبی کو اسکی امت کی زبان سکھائی ہے اور آقا علیہ السلام کل مخلوقات کے نبی و سلطان ہیں۔
لیکچر 6️⃣پارٹ5️⃣ 💖 نتیجہ: دنیا کی شہنشاہیت اور مادیت میں کچھ نہیں ہے، ساری عزت و عظمت مصطفیٰﷺ کے قدموں میں آجانے میں ہیں۔ ساری کرامتیں مصطفیٰﷺ سے عشق و محبت میں ہیں۔ساری تمکنت مصطفیٰﷺکے اطاعت و اتباع میں ہیں۔
لیکچر 7️⃣ پارٹ 1️⃣ 💖 نتیجہ: رحمتِ محمدی ﷺ تمام اشیاء اور تمام عالمین پر محیط ہے، اور یہی حقیقت میلاد النبی ﷺ کی بنیاد اور جواز ہے۔
لیکچر 7️⃣ – پارٹ 2️⃣ 💖 نتیجہ: حقیقت محمدی ﷺ تمام کائنات کی اصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اسی حقیقت کو چاہا اور "کن" کہا، پھر تمام مخلوقات اسی نور سے پیدا ہوئیں۔ قرآن اور مفسرین کی تفاسیر سے واضح ہے کہ نور محمدی ﷺ تخلیق کا سرچشمہ ہے۔ لہٰذا میلاد النبی ﷺ بدعت نہیں بلکہ اسی حقیقت کے شعور اور اظہار کا نام ہے، جو ایمان اور محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔
لیکچر 7️⃣ پارٹ 3️⃣ 💖 نتیجہ: نورِ مصطفی ﷺ کائنات کی تخلیق کا سبب اور اصل حقیقت ہے۔ میلاد مصطفی ﷺ انسانیت کے لیے انقلابِ رحمت ہے۔ حقیقتِ محمدیہ ﷺ وحدت اور کثرت کے درمیان وہ راز ہے جو کائنات کی معنویت کا مرکز ہے۔
لیکچر 8️⃣ 💖 نتیجہ: صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں ہر کام سادگی سے ہوتا تھا یہ اس دور کا تقاضا تھا۔ آج کے دور میں اگر ہماری گھریلو تقریبات اور شادیاں دھوم دھام سے منائی جائیں اور ولادت مصطفیٰﷺ پر خاموشی اور سادگی اپنائیں تو یہ ظاہری طور پر بے ادبی ہے۔
لیکچر 9️⃣ 💖 نتیجہ: جس طرح راتوں میں لیلۃ القدر، مہینوں میں رمضان المبارک، نازل کردہ کتابوں میں قرآن مجید کو فضیلت حاصل ہے۔اسی طرح جن کے توسط سے وجود کائنات ہے۔سرور کونین، سرکار دو عالم، تاجدار کائنات ،روح ارض و سماء، حبیب خدا، سرور کائنات، فخر موجودات حضور صلی اللہ علیہ و علی وآلہ و اصحابہ وسلم کی ولادت کے ماہ کو کیوں نہ فضیلت حاصل ہوگی۔؟
لیکچر 🔟 پارٹ 1️⃣ 💖 نتیجہ: اسلام میں اہم واقعات کی یاد کو منانا عین دین ہے۔ انبیاء کرام کے واقعات کی یاد میں نمازیں فرض ہوئیں، اور حج کے مناسک بھی انبیاء کی یادیں ہیں۔ جیسے حضور ﷺ نے دیگر انبیاء کے دن منائے، اسی طرح میلادِ مصطفیٰ ﷺ منانا سنتِ انبیاء و شکرِ نعمت کے عین مطابق ہے۔ حضور ﷺ کی ولادتِ مبارکہ تمام نعمتوں کی جڑ ہے، اس لیے اس کا جشن منانا ایمان کی علامت اور شکر کا اظہار ہے۔
لیکچر 🔟 پارٹ 2️⃣ 💖 نتیجہ: آقا علیہ السلام کا جشن میلاد، قرآن، حدیث، سنت نبوی ﷺ ، آئمہ محدثین اور کل تاریخ اسلام سے ثابت ہے۔ اس دن خرچ کرنے سے بہترین خرچ کوئی نہیں اور اس دن کی مسرت سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں۔
لیکچر 1️⃣1️⃣ پارٹ 1️⃣ 💖 نتیجہ: نبی کریم ﷺ کا ذکر "النجم" کے ذریعے قرآن میں ہوا ہے۔ آپ ﷺ کو سرچشمہ ہدایت، کائنات کی اصل اور اوّل المسلمین قرار دیا گیا۔ "ام" کا تصور بھی آپ ﷺ کی شان کی اصل اور مرکزیت کو واضح کرتا ہے۔
لیکچر 1️⃣1️⃣پارٹ 2️⃣ 💖 نتیجہ: نورِ مصطفی ﷺ کائنات کی تخلیق کا سبب اور اولین مخلوق ہے۔ یہ نور پاک نسلوں سے منتقل ہو کر عبدالمطلبؓ تک پہنچا۔ انبیاء سے حضور ﷺ کی نبوت پر میثاق لیا گیا، اور عرش سے جنت تک ہر شے پر اسمِ محمد ﷺ لکھ دیا گیا۔ کائنات کی اصل حقیقت اور برکت نورِ مصطفی ﷺ ہے۔
لیکچر 1️⃣1️⃣ پارٹ 3️⃣ 💖 نتیجہ: ولادتِ مصطفی ﷺ کا جشن منانا کوئی بدعت نہیں بلکہ یہ اللہ کے اس احسان پر شکرانہ ہے جس کا ذکر قرآن و سنت میں بار بار آیا ہے۔ ایمان، اسلام، قرآن، معرفتِ الٰہی — سب نعمتیں ولادتِ مصطفی ﷺ کے صدقے سے ہیں۔ میلاد النبی ﷺ دراصل ذکرِ مصطفی ﷺ ہے، اور ذکرِ رسول ﷺ کو اللہ نے خود بلند فرمایا۔
لیکچر 1️⃣1️⃣ پارٹ 4️⃣ 💖 نتیجہ: ایمان کی جان محبتِ مصطفی ﷺ ہے۔ اسلام کی روح ادبِ مصطفی ﷺ ہے۔ میلاد کا پیغام یہ ہے کہ اپنی زندگیاں عشق و ادب مصطفی ﷺ کے چراغ سے روشن کر لو۔ یہی تجدیدِ دین ہے، یہی اسلام کی بقا ہے، یہی ہماری کامیابی کا راز ہے۔
لیکچر 1️⃣2️⃣ پارٹ1️⃣ 💖 نتیجہ * ایمان اور عقیدہ کی بنیاد "مقامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم" کی معرفت اور تصدیقِ قلبی پر ہے۔ * جس دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ربطِ قلبی نہ ہو → وہ لاکھ علم و معرفت رکھتا ہو مگر مومن نہیں۔ * ایمان = دل کی گانٹھ، مضبوط ربط اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق۔
لیکچر 1️⃣2️⃣1️⃣ پارٹ2️⃣ 💖 *نتیجہ:* مسلمانوں کا امتیاز نہ تو توحید ہے نہ آخرت، بلکہ صرف اور صرف *مقامِ مصطفیٰ ﷺ اور غلامیِ مصطفیٰ ﷺ* ہے۔ یہی ایمان کا معیار ہے، یہی قبر و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
لیکچر 1️⃣2️⃣ پارٹ ️3️⃣ 💖 نتیجہ: اللہ رب العزت نے آقا علیہ السلام کی شان میں بلندی کی بات کی تو ساری اضافتیں ختم کر دیں اور علی الاطلاق فرمایا: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَo یعنی کوئی شے شانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ہے ہی نہیں۔ جب مقابلہ ہی نہیں تو شانِ مصطفی ہر ایک سے بلند ہے۔
29 lectures

قرآن مجید انسانیت کے لیے ہدایت کی آخری کتاب ہے، جو توحید، رسالت، آخرت، عدل، اخلاق اور بندگیِ الٰہی کا مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتی ہے۔
Mentor

مُجَدِّدُ الْمِائَةِ الْحَاضِرَة حضور شیخ الاسلام کے اعتکاف 2025 کے خطابات پر مبنی یہ کورس ایمان، توحید اور محبتِ الٰہی کی حقیقی لذت سے روشناس کروانے کے لئے ہے۔
Mentor

یہ کورس شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے یورپ کے ایک یادگار سفر کے دوران کیے گئے خطابات پر مشتمل ہے
Mentor